8 جولائی 2026 - 18:38
جرمن ماہرِ : رہبرِ شہید کو لاکھوں افراد کی رخصتی نے مغربی میڈیا کا بیانیہ بے نقاب کر دیا

جرمن ماہرِ کرسٹیان برگ باؤ نے کہا ہے کہ رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی آخری رسومات میں لاکھوں ایرانیوں کی شرکت نے مغربی ذرائع ابلاغ کے اس بیانیے کو غلط ثابت کر دیا، جس میں آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای کو عوامی حمایت سے محروم رہنما کے طور پر پیش کیا جاتا تھا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، جرمن ماہرِ عمرانیات کرسٹیان برگ باؤ نے اپنے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ رہبرِ شہید انقلاب اسلامی کی آخری رسومات میں ایرانی عوام کی پرجوش اور لاکھوں پر مشتمل شرکت نے ایرانی معاشرے کی حقیقی تصویر اور مغربی ذرائع ابلاغ کی جانب سے گزشتہ چند ماہ کے دوران پیش کیے گئے بیانیے کے درمیان واضح تضاد کو آشکار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ جرمنی کے اخبار بیلڈ نے رہبرِ شہید کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے لاکھوں افراد کی موجودگی کا اعتراف کیا، حالانکہ یہی اخبار اس سے قبل متعدد مرتبہ انہیں عوامی حمایت سے محروم رہنما کے طور پر پیش کرتا رہا تھا۔ برگ باؤ کے مطابق یہ مغربی ذرائع ابلاغ کے بیانیے کا واضح تضاد ہے، لیکن ان ذرائع ابلاغ نے نہ تو اس کی کوئی وضاحت پیش کی اور نہ ہی ایک خودمختار ملک کے رہنما کی فضائی حملے میں شہادت، جو بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے، کو مناسب اہمیت دی۔

جرمن میڈیا کے ڈھانچے میں صہیونی حمایت کا کردار

برگ باؤ نے مزید لکھا کہ اخبار بیلڈ جرمن میڈیا ادارے ایکسل اشپرنگر کی ملکیت ہے، جہاں ملازمین کے لیے ایسے اصولوں کی پابندی لازم ہے جن میں صہیونی حکومت کی حمایت بنیادی شرط سمجھی جاتی ہے۔

انہوں نے ماتیاس ڈوپفنر، ایکسل اشپرنگر کے چیئرمین، کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ملازمین کو خبردار کیا ہے کہ اگر وہ ادارے کے اصولوں، خصوصاً اسرائیل کے حقِ وجود کی حمایت، سے اتفاق نہیں رکھتے تو وہ اس ادارے میں کام جاری نہیں رکھ سکتے۔

ایک جرمن نوجوان صارف کی امام خامنہ ای کی شخصیت پر حیرت

جرمن ماہرِ عمرانیات نے لکھا کہ مغربی ذرائع ابلاغ کی وسیع پروپیگنڈا مہم کے باوجود سوشل میڈیا پر مختلف نوعیت کے ردعمل سامنے آئے ہیں۔ متعدد صارفین نے امام خامنہ ای کی تقاریر اور تصاویر دیکھنے کے بعد ان کی پُرسکون، باوقار اور سادہ اندازِ گفتگو پر حیرت کا اظہار کیا۔

انہوں نے ایک جرمن نوجوان صارف کے حوالے سے لکھا: "جب میں آیت اللہ خامنہ ای کی گفتگو سنتا ہوں تو ان کی دلنشیں آواز اور پُرسکون اندازِ گفتگو مجھے متاثر کرتا ہے۔ کیا واقعی یہی وہ شخصیت ہے جس کی تصویر مغربی میڈیا نے ہمارے سامنے پیش کی ہے؟"

برگ باؤ نے مزید کہا کہ امام خامنہ ای کی متانت اور بردباری کا موازنہ جب ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سیاست دانوں سے کیا جاتا ہے تو مغربی صارفین خود اس نمایاں فرق کو محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے اپنے مضمون میں مزید لکھا کہ سادہ طرزِ زندگی، عام لوگوں سے محبت بھرے روابط اور قومی و مذہبی اقلیتوں سے قریبی تعلق نے انہیں برسوں پہلے اس نتیجے پر پہنچا دیا تھا کہ وہ ایک مخلص اور حقیقی رہنما کے سامنے ہیں۔ ان کے بقول، امام خامنہ ای اپنے عقائد پر ثابت قدم رہے، مشکل ترین حالات میں استقامت کا مظاہرہ کیا اور اپنے نظریات، ملک کی آزادی اور خودمختاری کے لیے اپنی جان قربان کر دی۔

برگ باؤ نے اپنے مضمون کے اختتام پر مغربی سیاسی قیادت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یورپ کے بہت سے سیاست دان عوام کا اعتماد کھو چکے ہیں اور بہت کم لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے ممالک کی آزادی اور قومی مفادات کے لیے اسی استقامت کا مظاہرہ کریں گے جیسا امام خامنہ ای نے کیا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ مختلف عوامی جائزوں کے مطابق جرمنی کے موجودہ چانسلر ملک کی تاریخ کے سب سے غیر مقبول چانسلر ہیں، تو پھر آخر کون یقین کرے گا کہ وہ جرمنی کے مفادات اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے ڈٹ کر کھڑے ہوں گے؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha